حی علی الجہاد

:تحریر

معتدل باتیں

از

 محمد نعمت اللہ المتعثر


     جہاد کا لفظ سنتے ہی ذہن میں ایک خوفناک خیال گردش کرنے لگتا ہے جو کہ مغربی میڈیا نے ہمارے ذہنوں پہ نقش کیا ہے۔ درندہ صفت انسان معصوم انسانوں قتل کرتے اور روندتے ہوئے آگے بڑھ رہے ہوتے ہے۔ اور مغربی میڈیا ان درندوں کو مسلمانوں کا نام دیتا ہے، اور اس قتل و غارتگری کو جہاد کا مبارک نام دیتا ہے۔ غیر تو غیر اب بہت سے مسلمان بھی جہاد کو قتل و غارتگری کا مترادف سمجھتے ہے۔
     سترہویں صدی عیسوی سے قبل جہاد کو دیگر فرائض اسلام کی طرح ایک فرض گردانا جاتا تھا مگر پھر اپنوں کی مفادات نے اور اغیار کی سازشوں نے جہاد کو ایک تنازعہ بنادیا۔ جہاد کو اغیار نے سفاکی کہا اور بہت سے معصوم انسانوں کو اسلام سے بددل کیا اور مسلمانوں کو جہاد سے متنفر کیا۔ اور کسی نے بھی یہ سعی نہیں کی کہ جہاد کا اصل معنی معلوم کریں ہے؟ اسلام جہاد کسے کہتا ہے؟ قتال کا حکم قرآن کب دیتا ہے؟
     جہاد عربی زبان کے لفظ جہد سے مآخذ ہے جس کا مطلب کوشش، جد و جہد، محنت کا ہے۔ قرآن پاک میں معتدد مقامات پر اس کا زکر ہے، مگر جو مطلب میڈیا دکھاتا ہے وہ ذکر پورے قرآن پاک میں کہیں بھی نہیں۔ ناقدین اسلام کی جانب سے ایک آیت کا حوالہ دیا جاتا ہے کہ قرآن تو سراسر قتل و غارتگری کا درس دیتا۔

فَاقۡتُلُوا الۡمُشۡرِکِیۡنَ حَیۡثُ وَجَدۡتُّمُوۡہُمۡ وَ خُذُوۡہُمۡ وَ احۡصُرُوۡہُمۡ وَ اقۡعُدُوۡا لَہُمۡ کُلَّ مَرۡصَدٍ(9:5)

ترجمہ: مشرکوں کو جہاں پاؤ قتل کرو انہیں گرفتار کروان کا محاصرہ کرلو اور ان کی تاک میں ہر گھاٹی میں جابیٹھو۔

ناقدین بڑی عیاری سے آیت کو سیاق وسباق کے بغیر پیش کرتے مکمل آیت یہ ہے

فَاِذَا انۡسَلَخَ الۡاَشۡہُرُ الۡحُرُمُ فَاقۡتُلُوا الۡمُشۡرِکِیۡنَ حَیۡثُ وَجَدۡتُّمُوۡہُمۡ وَ خُذُوۡہُمۡ وَ احۡصُرُوۡہُمۡ وَ اقۡعُدُوۡا لَہُمۡ کُلَّ مَرۡصَدٍ ۚ فَاِنۡ تَابُوۡا وَ اَقَامُوا الصَّلٰوۃَ وَ اٰتَوُا الزَّکٰوۃَ  فَخَلُّوۡا سَبِیۡلَہُمۡ ؕ اِنَّ اللّٰہَ غَفُوۡرٌ  رَّحِیۡمٌ

ترجمہ: پھر حرمت والے مہینوں کے گزرتے ہی مشرکوں کو جہاں پاؤ قتل کرو انہیں گرفتار کرو ان کا محاصرہ کرلو اور ان کی تاک میں ہر گھاٹی میں جابیٹھو ، ہاں اگر وہ توبہ کرلیں اور نماز کے پابند ہوجائیں اور زکوۃ ادا کرنے لگیں تو تم ان کی راہیں چھوڑ دو  یقیناً اللہ تعالٰی بخشنے والا مہربان ہے ۔

     یہ جنگی حکمت عملی ہے جس کی تلقین خدا اپنے نبی کو فرماتے ہے کہ جو جو مشرکین مسلمانوں کو اور حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کو تکالیف پہنچاتے اور ان کو تنگ کرتے ہے تو حرام مہینوں (محرم، صفر، ذی القعدہ، ذی الحجہ کو ایام جہالت اور اوائل اسلام میں جنگ س جدل کیلئے حرام سمجھا جاتا تھا) کے گزرنے کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان سے جنگ کریں ان کو جہاں پائے قتل کریں اور جو تائب ہو جائیں اور اپنے سابقہ افعال و اقوال پر نادم ہو جائے تو خدا معاف کرنے والا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھی معاف فرمائے۔
     اصطلاحاً جہاد ذاتی دفاع (سیلف ڈیفنس) کو کہتے ہے یعنی شیطان اور نفس ایمان پر حملہ کریں تو اپنے ایمان کی دفاع کرنا جہاد کرنا ہے (جہاد بالعمل) جو کہ جہاد کی اعلی قسم ہے، جب مخالف زات پر حملہ کریں تو اپنے آپ کا دفاع کرنا جہاد ہے جو کہ (جہاد بالنفس)، اگر آپ بذات خود اپنی ذات اور اپنے مذہب و ملت کا دفاع نہیں کرسکتے تو مجاہدین کی مال کے زریعے مدد کرکے اپنی دفاع کریں تو یہ جہاد ہے (جہاد بالمال)، مخالف جب لسانی حملہ کریں تو اس کے حملہ کا دلائل سے دفاع کرنا جہاد ہے (جہاد بالعلم)، جب مخالف حملہ کرکے قتال پر اتر آئے تو قتال کرکے اپنی دفاع کرنا جہاد ہے(جہاد بالقتال) اگر مخالف تائب ہو جائے اور آپ کو پہنچایا گیا نقصان کا ازالہ کریں تو اللہ مہربان ہے اور اپنی جنگ ختم کرو۔
     جہاد درحقیقت ذاتی دفاع کا نام ہے مغربی میڈیا نے جہاد کو ایسا ڈراؤنا اور خوفناک بنایا کہ اب مسلمان جہاد کے لفظ سے ڈرتے ہیں لفظ جہادی گالی بن چکا ہے اور ایسے اپنے مقاصد میں کامیاب ہورہا ہے اور ہم بلا مزاحمت خود کو زبح کروا رہے ہیں کیونکہ مزاحمت (ذاتی دفاع/جہاد) تو ایک گناہ بن چکا ہے۔ جو جو یہ تحریر پڑھ رہے ہے تو ان سے عرض کرنا چاہتا ہو کہ اگر مغربی میڈیا نے آپ کا اتنا بددل کیا ہے کہ آپ جہاد سے متعلق قرآن پاک کی بھی نہیں سنتے تو زاتی دفاع (سیلف ڈیفنس) کیلئے ایک امریکی قانون دان جارج ای ڈکس (George E. Dix) کی تو سنے وہ اپنے کتاب Gilbert Law Summaries میں کہتے ہے
     In the U.S., the general rule is that "[a] person is privileged to use such force as reasonably appears necessary to defend him or herself against an apparent threat of unlawful and immediate violence from another.
     خدا کریں میرے اس کی وجہ سے کوئی ایک ذاتی دفاع کرنے کے قابل ہو جائے اور فخر سے کہہ سکے
حی علی الجہاد