اسلام کی نقل مکانی

:تحریر

معتدل باتیں

از

 محمد نعمت اللہ المتعثر

اس کالم سے پہلے میں نے وجہ انحطاط اسلام کے عنوان سے ایک کالم لکھا تھا جس میں میں نے سارا فوکس ایک ایسے لیبل پر کیا تھا جس کے متعلق جید علماء فرماتے ہیں کہ اگر کوئی شخص سو میں ننانوے فیصد بے ایمان ہو تب بھی آپ کفر کا لیبل نہیں لگا سکتے لیکن دوسری طرف ہم ہیں کہ جس نے رفع الیدین کیا تو کافر، سینے پر ہاتھ رکھ کر نماز پڑھا تو کافر، یا رسول اللّٰہ کہا تو کافر، گیارہویں امام کی اطاعت قبول نہ کی تو واجب القتل اور کافر۔
 اگر زاویے کو زرا تبدیل کر کے دیکھے تو شاید ہم سب ٹھیک کہہ رہے ہوں کیونکہ جہاں تک میرا مشاہدہ ہے تو ہمارے حالات بالکل تیرہویں صدی کے آواخر والے ہیں، اور مغرب فتنہ تاتار کی طرح ہم پر مسلط ہیں اور اسلام ہم سے کوچ کرکے مغرب کا رخ کر چکا ہے اور ہم قہر الٰہی کے معتوب ہوچکے ہیں۔ اب بھی اگر نہ سنبھلے تو بعید نہیں کہ ہم سب ایک دوسرے کو کافر کہتے ہوئے کافر بن جائے اور مغرب کے نوالہ بن جائے اور مغرب پے درپے اسلام کی حقانیت دیکھ کر اسے گلے لگائیں۔
ہے عیاں یورش تاتار کے افسانے سے
کعبے کو پاسبان مل گئے صنم خانے سے